آدمی کیسا کٹھور ہے۔ کس چیز کے لیے کیسی نادر زندگی وہ قربان کر دیتا ہے۔ تہذیب کی دہلیز پر کتنے سچے لوگ، کتنے سچے زمانے، کتنا اجالا اور کتنی روشنی بھینٹ چڑھا دی جاتی ہے۔
اللہ اللہ، یہ تھا طالبانِ علم کا اعزاز۔ عارف نے کہا : اے کاش لوگ یہ جان لیں کہ حصولِ علم کی مسرّت ہوتی کیا ہے ۔ کوئی جائے اور جا کر طالبانِ عصر کے ہم نوائوں کو بتائے ۔ خاص طور پر ان مولوی صاحب کو ، شریعت کو جنہوں نے تلوار بنا رکھا ہے ۔
برصغیر کے مقدر میں کشمکش ہے، جسے شائستہ اور مہذب کرنا چاہیے۔ یکایک دوستی کا تصور اس لیے بھی احمقانہ ہے کہ اوّل دشمنی ختم کی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں بھی احمقوں کی تعداد کم نہیں مگر بھارت کی انتخابی مہم میں سیاست کے تیور تو دیکھئے! ؎
تاریخ یہ کہتی ہے کہ بہترین صلاحیت آزادی میں بروئے کار آیا کرتی ہے، تقلید یا غلامی میں نہیں۔ الحذر، ان لیڈروں سے سو بار الحذر۔ میں دہراتا ہوں کہ عقل کبھی تنہا نہیں ہوتی، منفی یا مثبت ہمیشہ اس کے ساتھ کوئی دوسرا جذبہ لگا ہوتا ہے۔ دہراتا ہوں کہ سب سے اہم چیز…